بنگلورو،3؍ نومبر(ایس او نیوز) بٹ کوائن معاملہ میں ملوث ملز م شریکی کے ساتھ بی جے پی کے کسی بھی لیڈرکاکوئی رابطہ نہیں ہے،لیکن کانگریس کے بڑے قائدین کے بیٹوں کے ساتھ ملزم رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کی مثال سامنے ہے۔ملزم کابی کے قائدین سے کوئی رابطہ یاسازباز نہیں ہے۔یہ الزام ریاستی وزیرداخلہ ارگاگیانیندرنے عائدکیاہے۔
بروزمنگل اخباری نمائندوں کے ساتھ بات چیت کے دوران وزیر داخلہ نے کہاکہ ریاست کے سابق کانگریس رکن اسمبلی کے ساتھ گرفتارملزم شریکی 2018ء میں ڈرگس معاملہ میں ملوث پایاگیاتھا، اپوزیشن لیڈرسدارامیااس وقت ریاست کے وزیراعلیٰ تھے۔اس وقت کی حکومت اس معاملہ کوسنجیدگی سے نہیں لیاتھا،مگراب بی جے پی حکومت پر اس کاالزام عائدکرنے کی کوشش کانگریس پارٹی کی جانب سے کی جارہی ہے۔انہوں نے مزیدکہاکہ بٹ کوائن معاملہ میں کارروائی کرنے کے لیے ای ڈی اورانٹرپول کوسفارش کی گئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ شریکی کے ساتھ بی جے پی کاکونسالیڈررابطہ میں ہے اس کی وضاحت کانگریس کوکرنی ہوگی۔ہمارے قائدین میں سے کوئی بھی شریکی کے ساتھ رابطہ میں نہیں ہے،جوبھی ہیں وہ کانگریس کے ہیں۔کانگریس لیڈروں کوچاہئے کہ وہ اپنے وقارکوبچانے کے لیے اس معاملہ میں خاموشی اختیارکریں۔انہوں نے کانگریس پرپلٹ وارکرتے ہوئے کہاکہ یوبی سٹی میں جب جھگڑاہواتھااس معاملہ کی تحقیق کرنے کی بجائے کانگریس نے یوں ہی چھوڑدیاتھا،اس معاملہ کونظراندازکرنے والے کانگریس پارٹی سے ہیں اوراب ہماری پارٹی کوموردالزام ٹھہرانے کی کوشش کررہے ہیں۔ایک سوال کاجواب دیتے ہوئے وزیرداخلہ نے کہاکہ یہ معاملہ ہانگل اورسندگی کے ضمنی انتخابات کے نتائج پرکوئی اثرنہیں ڈالے گا۔
توقع کے مطابق سندگی میں بی جے پی امیدوارنے جیت درج کرلی ہے۔انہوں نے کہاکہ بیلگاوی کے لوک سبھاحلقہ کے ضمنی انتخابات میں بھی یہی صورتحال تھی،آخرکاربی جے پی نے جیت درج کی۔